گاؤں کی پرسکون فضا میں واقع وہ چھوٹی سی تالاب صدیوں سے اپنی گود میں بے شمار کہانیاں سمیٹے بیٹھی تھی، مگر اس کے کنارے جنم لینے والی محبت کی داستان سب سے زیادہ دِلگیر اور سب سے زیادہ سچی تھی۔ فائزاں اور ماہ نور بچپن ہی سے اسی تالاب کے قریب کھیلتے رہے تھے۔ دھیمی ہوا میں مہکتے کنول کے پھول، پانی کی نرم لہریں اور شام کے وقت چاندنی کا کسی حریر کی طرح پانی پر بچھ جانا—ان سب کے درمیان دونوں کے دِل ایک دوسرے سے وابستہ ہوگئے۔ محبت نے بے آواز ان کے دلوں میں قدم رکھ لیا تھا، اور تالاب اس محبت کا پہلا گواہ بن چکا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں کے دلوں میں اس خاموش محبت کی آگ اور بھڑکتی چلی گئی۔ فائزاں ہر روز شام ڈھلے تالاب کے کنارے ایک چھوٹا سا دیا جلا کر رکھ دیتا، جس کی لرزتی ہوئی لو ماہ نور کی آمد کی خبر دیتی۔ ماہ نور جب اس روشنی کی طرف بڑھتی تو اس کے قدم خود بخود دھیرے ہوجاتے، جیسے دل چاہتا ہو کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو۔ دونوں اکثر لمبی خاموشیوں میں بیٹھے پانی کی لہروں کو دیکھتے اور بنا کچھ کہے ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھ لیتے تھے۔ ان کا پریم لفظوں کا محتاج نہیں تھا۔
Talab Kinare Ka Aakhri Intezaar
مگر زندگی ہمیشہ دل کی لکھی ہوئی کہانیوں پر نہیں چلتی۔ ایک دن ماہ نور کے چہرے کی زردی سب کی نظروں میں آگئی۔ بیماری نے اسے کمزور کردیا، اور گاؤں کے حکیم نے ہاتھ اٹھا لیے۔ والدین گھبرا کر اسے شہر لے جانے لگے۔ اسی رات ماہ نور چپکے سے تالاب تک پہنچی، جہاں فائزاں پہلے سے بے چینی کے عالم میں بیٹھا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا، “فائزاں… اگر میں دیر سے لوٹی تو بھی تم انتظار کرنا، کیونکہ دل کا رشتہ وقت سے نہیں ٹوٹتا۔” فائزاں نے اس کی بات کو آنکھوں میں جذب کرلیا، گویا وہ جملہ اس کی پوری زندگی بن چکا تھا۔
ماہ نور شہر چلی گئی، اور فائزاں کا دل اسی کنارے پر رک گیا۔ دن مہینوں میں بدلے، مہینے سالوں میں، مگر فائزاں کا معمول نہ بدلا۔ وہ ہر شام وہی دیا جلاتا، تالاب کی طرف دیکھ کر کہتا، “ماہ نور، میں آج بھی وہیں ہوں جہاں تم نے چھوڑا تھا۔” لوگ اسے دیوانہ کہنے لگے، مگر وہ مسکرادیتا۔ “محبت کا دیوانہ ہونا رسوائی نہیں”، وہ کہا کرتا تھا۔
پھر ایک دن شہر سے ایک پرانا خط آیا۔ فائزاں نے وہ خط ہاتھوں میں لیا تو اس کی انگلیاں کانپنے لگیں۔ ماہ نور کی تحریر جیسے دل کا بوجھ بن کر اترتی گئی:
“فائزاں… شاید اب میں اس دنیا میں واپس نہ آ سکوں۔ میرے دل سے نکلی دعا ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔ اگر زندگی نے وفا نہ کی، تو یاد رکھنا… میرا دل آج بھی اسی تالاب کے کنارے تمہارے ساتھ بیٹھا ہے۔”
فائزاں کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو تالاب کے پانی میں ایسے ملے جیسے محبت اپنی آخری شکل میں سمٹ رہی ہو۔ اس رات وہ دیر تک بیٹھا رہا، اس بڑھتی ہوئی خاموشی میں بھی ماہ نور کی آواز سنتا رہا۔ دن گزرے، موسم بدلے، لوگ بدل گئے، مگر فائزاں کے دل میں نہ وہ دیا بجھا نہ وہ انتظار کم ہوا۔
آج بھی گاؤں والے کہتے ہیں کہ شام کے وقت تالاب کے کنارے ایک دیا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ فائزاں اب بھی وہیں بیٹھا ہے، کچھ کہتے ہیں کہ وہ خود اس تالاب کی خاموشی میں تحلیل ہوچکا ہے۔ مگر سب اس بات پر متفق ہیں کہ محبت اگر سچی ہو تو وصال سے نہیں، انتظار سے زندہ رہتی ہے۔
تالاب کی لہریں آج بھی انہی دونوں کے نام کی سرگوشیاں کرتی ہیں، جیسے محبت وقت کے ساتھ نہیں مرتی… وہ دل کے اندر کوئی ایسی جگہ بنا لیتی ہے جہاں جدائی بھی اسے ختم نہیں کر پاتی۔