گاؤں کے کنارے ایک پرانا کچا راستہ تھا۔ اس راستے پر روز شام کے وقت ہلکی دھند اُترتی تھی اور اسی دھند کے بیچ ایک لڑکی، ترنم، خاموش قدموں کے ساتھ تالاب کی طرف جاتی تھی۔ گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کوئی ادھوری کہانی بسی رہتی ہے، جیسے لفظ اس کے ہوں مگر آواز کبھی نہ بنی ہو۔
ترنم کا بچپن خوشگوار نہیں تھا۔ گھر میں اکثر سرد رویّہ، کم بولنے والے لوگ، اور ایک ایسی تنہائی جس میں دل آہستہ آہستہ گھلتا رہتا ہے۔ ماں جلدی گزر گئی تھی، اور باپ زیادہ تر کام میں گم رہتا تھا۔ گھر کی ویرانی نے اس کے اندر ایک عجیب سی جھجک بھر دی تھی۔ وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی خالی محسوس کرتی، اور کبھی کبھی اپنے ہی گھر کے اندر اجنبی بن جاتی۔
اسی دوران اس کی زندگی میں ریحان آیا۔ ایک نرم دل، ہنستا کھیلتا لڑکا جو گاؤں کی فضا میں ہلکی تازگی لے کر آیا تھا۔ ریحان کو ترنم کا کم بولنا اچھا لگتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ جو لوگ کم بولتے ہیں، ان کے اندر پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔ وہ اکثر اس سے کہتا،
تم خاموش نہیں ہو ترنم… تم بس لفظوں کو ضائع نہیں کرتیں۔
یہ جملہ ترنم کے دل پر نقش ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ شام کے وقت تالاب کے کنارے ملنا دونوں کی عادت بن گئی۔ ترنم کو پہلی بار محسوس ہوا کہ کوئی اسے سن سکتا ہے، چاہے وہ کچھ کہے نہ کہے۔ ریحان کے سامنے وہ کبھی جھجکی نہیں، کبھی خوفزدہ نہیں ہوئی۔ اسے پہلی بار لگا کہ محبت شاید ایسی ہی ہوتی ہے بے آواز، بے مطالبہ، اور پھر بھی مکمل۔
مگر کہانی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔
ریحان کے گھر والے شہر منتقل ہونا چاہتے تھے۔ بہتر تعلیم، بہتر روزگار گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ اچانک تھا۔ ریحان نے ترنم کو بتاتے ہوئے کہا،
میں جا رہا ہوں مگر لوٹ کر آؤں گا۔ یہ وعدہ رہا۔
ترنم نے صرف اتنا کہا،
وعدے خوشبو کی طرح ہوتے ہیں رہ بھی جائیں تو پکڑے نہیں جاتے۔
ریحان نے اس کی آنکھوں میں اداسی دیکھی مگر کچھ نہ کہا۔
دن گزر گئے۔ مہینے بدل گئے۔ مگر ریحان کی واپسی نہ ہوئی۔ خط بھی کم آنے لگے۔ شہر کی زندگی نے اسے اپنے رنگ میں ایسا رنگ دیا کہ گاؤں کا سکوت، تالاب کی نمی، اور ترنم کی خاموشی سب کہیں دھندلا گئے۔
ترنم اب بھی ہر شام تالاب کے کنارے جاتی۔ وہی جگہ، وہی دھند، وہی سانس کی دھیمی لرزش۔ اس نے ریحان سے شکایت کبھی نہ کی۔ نہ خط میں، نہ دل میں۔ محبت اس کے لئے انتظار کا دوسرا نام بن چکی تھی۔
ایک رات ہلکی بارش کے بعد تالاب کے پانی میں عجیب سی چاندنی جھلک رہی تھی۔ ترنم وہیں بیٹھی تھی کہ اندر سے کوئی احساس اُبھرا — شاید کچھ ختم ہو چکا ہے، شاید کچھ نیا جنم لے رہا ہے۔ وہ خود سے کہنے لگی:
اکیلے رہ کر بھی انسان مکمل ہو سکتا ہے بس دل ٹوٹنے کی صدا کو سننا نہ سیکھے۔
اس نے پہلی بار ریحان کے بغیر چلنے کی طاقت محسوس کی۔
محبت کا سورج اس کے دل میں ضرور غروب ہوا تھا، مگر اسی غروب نے ایک نیا طلوع بھی دیا تھا خودی کا، ہمت کا، اور خاموش طاقت کا۔
وقت کے ساتھ وہ گاؤں میں بچوں کو پڑھانے لگی۔ اس کی مسکراہٹ میں کبھی کبھی درد چھلکتا، مگر اب وہ درد اس پر بوجھ نہیں تھا۔ وہ اس کا حصہ بن چکا تھا، جیسے پرانی کتاب کی خوشبو موجود بھی، نرم بھی، اور لازمی بھی۔
یوں اکلیپن سے جھجھتی ترنم نے خود کو مکمل کرنا سیکھ لیا۔
محبت شاید ریحان سے ملی تھی،
مگر جینا وہ خود سے سیکھ گئی تھی۔
محبت انسان کو بدل دیتی ہے، مگر اکیلاپن سکھا دیتا ہے کہ انسان اپنی طاقت خود ہوتا ہے۔