Urdu Kahani Maa Ki Dua: بوڑھے درخت کی چھاؤں

Urdu Kahani Maa Ki Dua

بوڑھے درخت کی چھاؤں: ایک بھولی ہوئی ماں کی دعائیں
ایک پرسکون پرانے محلے میں ایک بوڑھی ماں رہتی تھی جسے سب لوگ امّاں کہہ کر پکارتے تھے۔ گھر چھوٹا سا تھا مگر اس کے دل میں اولاد کے لیے ساری دنیا سموئی ہوئی تھی۔ اس کا صرف ایک بیٹا تھا فراز۔ کچھ سال پہلے وہ روزگار کی تلاش میں شہر چلا گیا اور پھر آہستہ آہستہ اس کی مصروف زندگی نے ماں کو پیچھے کہیں دور چھوڑ دیا۔
امّاں کے گھر کے سامنے ایک بہت پرانا اونچا درخت تھا۔ اس کے نیچے بچھا گھاس کا ہلکا سا قالین امّاں کی عمر بھر کی تنہائی کا ساتھی بن چکا تھا۔ ہر شام امّاں اسی درخت کی چھاؤں میں بیٹھتی ہاتھ میں وہ پرانی تسبیح پکڑے ہوئی جو اسے اس کے مرحوم شوہر نے دی تھی۔
ماں کی روزانہ کی دعا
ہر دانہ گھومتا تو ایک دعا نکلتی۔
یا اللہ میرے بیٹے کو آسانی دے۔ تھک جائے تو میرے پاس لوٹا دے۔
محلے کے لوگوں نے کئی بار کہا کہ فراز اب بدل گیا ہے ہو سکتا ہے ماں کی فکر بھی نہ کرتا ہو۔ مگر امّاں کا ایمان کبھی کم نہ ہوا۔ وہ روز اسی درخت کے نیچے بیٹھی رہتی، جیسے یقین ہو کہ ایک دن بیٹا اسی راستے سے لوٹے گا۔
شہر میں گم ہونے والا بیٹا
دوسری طرف فراز شہر کی زندگی میں ایسا الجھا کہ مہینوں ماں کو فون کرنا بھی یاد نہ رہتا۔ نئی نوکری، نیا ماحول نئے لوگ۔
یہ سب مل کر اس کے دل پر ایک ایسی تہہ چڑھا چکے تھے جس کے نیچے ماں کی آواز کہیں دب گئی تھی۔
پھر ایک دن دفتر میں ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ پورا پروجیکٹ برباد ہونے کے قریب تھا۔ باس نے سب کے سامنے اسے ڈانٹا۔ فراز کے غرور پر ضرب لگی اور وہ بے حد پریشان ہو گیا۔
اسی رات وہ تھک کر اپنے بستر پر بیٹھا سر جھکایا اور اچانک اسے اپنی ماں کی وہ دعا یاد آئی جو وہ بچپن میں اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پڑھتی تھی۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس نے فون اٹھایا، مگر ہمت نہ ہوئی۔
کتنے دن گزر گئے تھے کیا ماں ناراض ہو گی؟
رات کا فیصلہ
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔
اچانک فراز نے فیصلہ کر لیا۔
مجھے گھر جانا چاہیے شاید امّاں میرا انتظار کر رہی ہوں۔
وہ گاڑی لے کر رات ہی رات پرانے محلے کی طرف نکل پڑا۔ کچا راستہ اندھیرا، بارش مگر اس کا دل ایک ہی منزل کی طرف کھنچ رہا تھا۔
ماں کے قدموں میں واپسی
گھر کے باہر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ وہی پرانا درخت اب بھی کھڑا ہے۔
اور اس کی چھاؤں کے نیچے ایک چارپائی رکھی ہے۔
چارپائی پر کوئی سو رہا تھا۔
قریب جا کر دیکھا
وہ امّاں تھیں۔
ہلکی سی چادر اوڑھے سکون سے سو رہی تھیں۔ ان کے پاس وہی پرانی تسبیح رکھی ہوئی تھی اور ایک چھوٹی سی لالٹین جل رہی تھی۔
فراز کے قدم کپکپانے لگے۔ وہ آہستہ سے بیٹھ گیا، امّاں کے پاؤں پکڑ کر رونے لگا۔
آنسوؤں کی آواز سے امّاں جاگ گئیں۔
ان کی آنکھوں میں حیرت تو تھی مگر غصہ نہیں۔ صرف محبت۔
آ گیا میرا بیٹا؟
امّاں نے مسکرا کر کہا۔
میں تو روز اسی درخت کی چھاؤں میں سوچتی تھی آج ضرور آئے گا۔
فراز پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
امی میں بہت بُرا ہوں۔ میں نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ میں آپ کا خیال نہ رکھ سکا
امّاں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
بیٹا ماں کبھی ناراض نہیں ہوتی۔ میں تو دعا کرتی رہی کہ تو سلامت رہے۔ راستہ بھٹک بھی جائے مگر لوٹ آئے بس یہی دعا تھی۔
دل کا بدل جانا
فراز نے پہلی بار ماں کی دعاؤں کی طاقت کو اس طرح محسوس کیا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ ماں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
یا تو اسے شہر ساتھ لے جائے گا
یا خود اسی محلے میں رہائش اختیار کرے گا۔
اسے سمجھ آ چکا تھا کہ کامیابی صرف اچھی نوکری یا بڑی تنخواہ نہیں ہوتی۔
کامیابی وہ ہے جو دل کو سکون دے۔
اور ماں کی دعا سے بڑھ کر کوئی سکون نہیں۔
آخری منظر
کہانی اسی درخت کی چھاؤں میں ختم ہوتی ہے۔
اگلی شام امّاں اور فراز ساتھ بیٹھے ہیں۔
امّاں کے ہاتھ میں تسبیح ہے۔
لیکن اس بار وہ بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر شکر کی دعا کر رہی ہیں۔
درخت کے پتوں میں ہلکی ہلکی سرسراہٹ ہے۔
جیسے وہ بھی گواہی دے رہے ہوں کہ ماں کی دعا کبھی بے اثر نہیں جاتی
وہ دیر سے سہی، مگر ہمیشہ رہنمائی کرتی ہے۔

Leave a Reply