گاؤں کے کنارے ایک کچی گلی تھی جس پر شام ہوتے ہی ہلکی دھند اُتر آتی تھی۔ اسی گلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا مٹی کا گھر تھا جہاں ماں زینب اپنے بیٹے احمد کے انتظار میں روز دروازے کی طرف دیکھتی رہتی تھی۔ احمد شہر میں محنت مزدوری کرتا تھا اور مہینوں بعد ہی گھر آ پاتا تھا۔ مگر اس رات کچھ مختلف تھا۔ ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی، جیسے کوئی بھاری خبر اُترنے والی ہو۔
زینب بار بار چولہے سے اٹھ کر دروازے پر جاتی اور قدموں کی آواز سننے کی کوشش کرتی۔ دل بے چین تھا، لیکن وہ اپنے آپ کو تسلی دیتی رہتی کہ احمد محفوظ ہوگا۔ گاؤں والوں نے شہر کے حالات خراب ہونے کی خبریں سنائی تھیں، مگر ماں نے ان باتوں کا اثر اپنے دل تک نہ آنے دیا۔
رات کے دس بجے دروازہ آہستہ سے کھلا۔ زینب کی سانس رُک گئی۔ احمد اندر آیا، مگر اس کے چہرے پر وہ پرانی مسکراہٹ نہیں تھی۔ آنکھوں میں بوجھ، جسم میں لرزش، اور ہونٹوں پر بے آواز درد تھا۔
“امّی”
اس کی آواز میں ٹوٹا ہوا پن تھا۔
زینب دو قدم میں اس کے پاس پہنچ گئی۔
“خیر ہے بیٹا؟ تم اس طرح کانپ کیوں رہے ہو؟”
احمد نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا،
“امی آج شہر میں بہت برا ہوا۔ میں بچ تو آیا ہوں، لیکن دو آدمی میری آنکھوں کے سامنے مر گئے۔ میں ان کی مدد نہ کر سکا”
ماں نے اس کی بات سن کر گہرا سانس لیا۔
“بیٹا، جان بچ جانا اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ انسان سب کچھ نہیں بدل سکتا۔ تقدیر کی لکیر انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی۔”
احمد زینب کی گود میں سر رکھ کر بیٹھ گیا۔
“امی، دل بہت بھاری ہے۔ نیند بھی نہیں آ رہی۔”
زینب نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، جیسے بچپن میں رکھا کرتی تھی۔
“سوجاؤ احمد، میں یہیں ہوں۔ میری دعا تمہارے ساتھ ہے۔”
احمد نے آنکھیں بند کیں لیکن نیند پھر بھی نہ آئی۔ رات گہری ہوتی گئی۔ خاموشی بڑھتی گئی۔ کچھ وقت بعد احمد نے آہستہ سے کہا،
“امی اگر میں کل زندہ نہ رہا تو؟”
زینب کے دل پر چوٹ لگی۔
“ایسی بات زبان پر کیوں لاتے ہو؟ تم میرے جینے کی وجہ ہو۔”
احمد نے ماں کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے۔
“امی، آج موت بالکل قریب محسوس ہوئی۔ ایسے لگا جیسے بس ایک قدم دور ہو۔”
زینب نے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
“زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مگر یاد رکھو کہ میں تمہاری ہر رات کی دعا ہوں۔ اللہ میری دعا کو خالی نہیں جانے دے گا۔”
احمد کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی نرمی آئی۔
“امی. مجھے اپنا آخری سلام دے دو۔ دل چاہ رہا ہے کہ آج وہ سلام سنوں۔”
یہ سن کر زینب کی آنکھیں بھر آئیں۔
“میرا بچہ، میری دعا، میرا فخر… میرا سلام تم پر ہمیشہ رہے گا۔ مرنے کے بعد بھی۔”
احمد نے آنکھیں بند کیں۔
زینب نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا اور ماتھے پر پیار سے بوسہ دیا۔
“السلام علیک یا نورِ نظر”
یہ اس کا آخری سلام تھا۔
احمد کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ چند لمحوں بعد اس کی سانس دھیمی پڑنے لگی۔ زینب نے محسوس کیا کہ اس کا بیٹا اس کی گود میں سو رہا ہے، مگر اس بار یہ نیند واپس آنے والی نہ تھی۔
اس رات ماں کی گود میں
احمد نے اپنی آخری سانس لی،
اور زینب نے اپنی ساری دنیا۔