Bahen Ki Qurbani : ایک بہن کی قربانی کی دل کو چھو لینے والی کہانی

Bahen Ki Qurbani : ایک قربانی جو دل بدل دیتی ہے

اس کہانی کا آغاز ایک چھوٹے مگر پرسکون محلے سے ہوتا ہے، جہاں ارسلان اور اس کی بہن حفصہ اپنے والدین کے انتقال کے بعد ایک دوسرے کا سہارا بن کر جی رہے تھے۔ گھر کی ذمہ داریاں، اخراجات اور مستقبل کی فکریں، سب کچھ ارسلان کے کندھوں پر تھا، مگر اس کے دل میں ہمیشہ ایک خواہش چھپی رہتی تھی کہ وہ کسی طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور اپنی زندگی بہتر بنائے۔
حفصہ عمر میں اس سے دو سال چھوٹی تھی مگر اس کی سمجھ بوجھ اور بردباری اکثر لوگوں کو حیران کر دیتی۔ وہ خاموشی سے گھر سنبھالتی، سلائی کا کام کرتی اور جتنا ممکن ہوتا، ارسلان کا بوجھ کم کرتی۔ مگر پھر بھی حالات کبھی اتنے مضبوط نہیں ہوتے تھے کہ دونوں کی زندگی سکون سے گزر سکتی۔
ایک دن قسمت نے دروازہ کھٹکھٹایا
ایک مشہور یونیورسٹی سے ارسلان کو ایڈمیشن کا لیٹر ملا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی مگر خط کے آخر میں لکھا ایک جملہ اس کی ساری خوشی کھینچ کر لے گیا
“فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ: پندرہ دن”
ارسلان نے خط میز پر رکھا اور گہری سانس لی۔
حفصہ، یہ میرا خواب تھا مگر ہم فیس کہاں سے لائیں گے اس نے مایوسی سے کہا۔
حفصہ نے مسکرا کر اس کا چہرہ دیکھا۔
ارسلان بھائی، خواب قربانی مانگتے ہیں۔ شاید اللہ نے ایک راستہ پہلے ہی بنا رکھا ہو۔
بہن کی خاموش قربانی
اسی رات حفصہ خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ اس نے اپنی ماں کے زمانے کی سونے کی بالیاں ہاتھ میں لیں۔ یہ وہ چیز تھیں جنہیں وہ کبھی بھی فروخت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، مگر اس لمحے اسے اپنے بھائی کے مستقبل کا خیال اپنی تمام چاہتوں سے بڑھ کر محسوس ہوا۔
اگلے دن، وہ زیورات بیچ کر پیسے گھر لے آئی۔
ارسلان نے حیرت سے پوچھا،
یہ کہاں سے آئے؟
حفصہ نے نرمی سے کہا
بھائی، یہ فیس کے پیسے ہیں۔ اللہ نے ایک راستہ دیا تھا، بس میں نے پکڑ لیا۔
ارسلان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
حفصہ، تم نے میرے لئے اتنی بڑی قربانی کیوں دے دی؟
حفصہ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا
آپ میری امید ہو۔ آپ کی کامیابی ہی میری خوشی ہے۔ بہن بھائی کے لئے قربانی دیتی ہے، سودا نہیں کرتی۔
وقت نے سب بدل دیا
ارسلان نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا، دن رات پڑھائی کی، محنت کی اور کچھ ہی سالوں میں ایک بڑی کمپنی میں ملازمت حاصل کر لی۔ زندگی میں پہلی بار اس نے اپنے گھر کی بدحالی کو خوشحالی میں بدلتے دیکھا۔
ایک دن وہ گھر لوٹا تو ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔
حفصہ، یہ تمہارے لئے ہے۔
حفصہ نے حیرت سے ڈبہ کھولا۔
اندر وہی ڈیزائن کی بالیاں تھیں، مگر پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت اور قیمتی۔
حفصہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
بھائی، یہ سب کیوں؟
ارسلان نے محبت سے کہا،
“یہ تمہاری قربانی کی قیمت نہیں۔ قربانی کی قیمت نہیں ہوتی۔ یہ صرف ایک شکریہ ہے، کیونکہ تم نے میری زندگی بدل دی۔
ایک اور خوشخبری
چند مہینوں بعد ارسلان نے حفصہ کو ایک بہترین کالج میں داخلہ دلوایا، جہاں وہ اپنا پسندیدہ مضمون پڑھنے لگی۔
اور یوں زندگی کا وہ دروازہ جو کبھی بند لگتا تھا، کھلتا چلا گیا، صرف ایک بہن کی خاموش قربانی کی وجہ سے۔

Leave a Reply