گاؤں کے کنارے ایک پرانا گھر تھا۔ گھر کے سامنے ایک بوڑھا پیپل کا درخت کھڑا تھا، جیسے برسوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہو۔ شام ڈھلے اس کے پتے ہلتے تو یوں لگتا جیسے وہ بھی کسی کی بات سن رہا ہے۔
اس گھر میں حامد رہتا تھا۔ حامد کے دو بچے تھے۔ بڑا بیٹا سعد اور چھوٹی بیٹی مریم۔ ان کی ماں، امینہ، دو سال پہلے بیماری کے بعد دنیا سے چلی گئی تھی۔ گھر میں خاموشی رہتی تھی، مگر اس خاموشی میں بھی امینہ کی آوازیں رہ گئی تھیں۔ پانی کا گھڑا بھرنے کی ہلکی سی چھنک، بچوں کو سلاتے وقت لوری، اور صبح کی اذان پر چولہے کی دھیمی آنچ۔
امینہ کے جانے کے بعد حامد ٹوٹ گیا تھا۔ وہ بچوں کے سامنے مضبوط بننے کی کوشش کرتا، مگر رات کو جب سب سو جاتے، وہ اسی بوڑھے درخت کے نیچے بیٹھ جاتا۔ کبھی درخت کی جڑوں کے پاس ہاتھ رکھتا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال رہتا: میں اپنے بچوں کو اکیلا کیسے پالوں گا؟
محلے کی عورتیں باتیں کرتیں۔ کوئی کہتا، “مرد کے لیے گھر سنبھالنا مشکل ہے۔” کوئی کہتا، “بچوں کو ماں چاہیے۔” حامد پہلے تو ٹال دیتا، مگر وقت کے ساتھ گھر بکھرنے لگا۔ سعد اسکول سے آتا تو روٹی کے لیے پوچھتا۔ مریم کبھی بھوکی سو جاتی، کبھی ماں کی چادر سے لپٹ کر روتی۔
ایک دن حامد کی بہن، نائلہ، آئی۔ اس نے گھر دیکھا تو خاموش ہو گئی۔ چولہا ٹھنڈا تھا، برتن ادھر ادھر پڑے تھے، اور مریم کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ نائلہ نے آہستہ سے کہا، “بھائی، بچے چھوٹے ہیں۔ گھر کو ایک ہاتھ چاہیے، ایک دل چاہیے۔”
حامد نے سر جھکا لیا۔ اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔ “میں پوری کوشش کرتا ہوں، مگر ہر روز کم پڑ جاتا ہوں۔”
کچھ ہی ہفتوں بعد حامد کی دوسری شادی ہو گئی۔ لڑکی کا نام صبرینہ تھا۔ وہ شہر میں رہ چکی تھی، مگر حالات کی مار نے اسے واپس گاؤں کی طرف دھکیل دیا تھا۔ اس کے چہرے پر نرم سا سکون تھا، مگر آنکھوں میں ایک پرانی تھکن بھی تھی۔ وہ نکاح کے بعد اسی گھر میں آئی، جہاں بوڑھا درخت دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
جس دن وہ آئی، سعد دروازے کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ مریم نے اپنے باپ کی ٹانگ پکڑ لی، جیسے کوئی اسے چھین لے گا۔ بچے “سوتیلی ماں” کا لفظ سن چکے تھے۔ لوگوں کی باتیں ان کے کانوں میں بیٹھ چکی تھیں۔ سعد نے دل میں سوچ لیا تھا: اب ڈانٹ پڑے گی، اب مار پڑے گی، اب ماں والی محبت نہیں ملے گی۔
ے نہیں، دکھ سے بھرا ہوا ہے۔ اس نے کسی کو فوراً گلے نہیں لگایا، کسی پر حکم نہیں چلایا۔ بس آہستہ سے چولہے کے پاس گئی، برتن دھوئے، آٹا گوندھا، اور روٹی سینکنے لگی۔
روٹی کی خوشبو پھیلی تو مریم کا دل مچلا۔ وہ دو قدم آگے آئی، پھر رک گئی۔ سعد نے اسے پیچھے کھینچ لیا۔ صبرینہ نے یہ دیکھا، مگر کچھ نہیں کہا۔ اس نے دو روٹیاں پلیٹ میں رکھیں، ساتھ تھوڑا سا سالن، اور پلیٹ چوکھٹ کے قریب رکھ دی۔ پھر خود پیچھے ہٹ گئی۔
وہ پہلی رات بہت لمبی تھی۔ بچے اپنے کمرے میں سہمے رہے۔ حامد بھی خاموش تھا۔ صبرینہ نے بستر پر لیٹ کر چھت کو دیکھا۔ اس کے دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس گھر میں اسے صرف بیوی نہیں، ایک امتحان بن کر آنا پڑا ہے۔
اگلی صبح صبرینہ نے مریم کے بال سنوارنے کی کوشش کی۔ مریم نے ہاتھ جھٹکا اور رونے لگی۔ سعد نے غصے میں کہا، “میری بہن کو ہاتھ مت لگاؤ!” اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر وہ بہادر بن رہا تھا۔
صبرینہ کا دل چوٹ کھا گیا، مگر اس نے خود کو روکا۔ وہ دھیرے سے بولی، “ٹھیک ہے سعد۔ میں نہیں لگاؤں گی۔ تم خود سنوار دو۔”
یہ بات سعد کے لیے نئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ عورت تو لڑے گی، مگر یہ تو پیچھے ہٹ گئی۔
دن گزرتے گئے۔ صبرینہ نے گھر میں نظم لے آئی۔ کپڑے وقت پر دھلتے، کھانا وقت پر بنتا، اور بچوں کے اسکول کے کپڑے صاف رہتے۔ مگر اس سب کے باوجود بچوں کے دل بند تھے۔ مریم کبھی کبھی رات کو ماں کو یاد کر کے روتی۔ سعد اسے چپ کراتا، مگر خود بھی اندر سے ٹوٹ جاتا۔
ایک شام مریم کو تیز بخار ہو گیا۔ حامد کھیت پر تھا۔ سعد گھبرا گیا۔ وہ دوڑ کر صبرینہ کے پاس آیا، مگر پھر رک گیا، جیسے اپنی ضد یاد آ گئی ہو۔ صبرینہ نے سعد کی آنکھوں میں ڈر دیکھا تو کچھ پوچھے بغیر مریم کو اٹھایا۔ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، پانی کی پٹیاں رکھیں، اور گاؤں کے حکیم کو بلا لیا۔
رات بھر وہ مریم کے پاس بیٹھی رہی۔ اس نے مریم کے ہاتھ کی انگلیاں تھامیں، جیسے ماں تھامتی ہے۔ مریم نیم بے ہوشی میں بڑبڑائی، “امی” پھر اچانک خاموش ہو گئی۔
یہ لفظ صبرینہ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ مگر اس نے اپنے آنسو اندر ہی رکھے۔ اس نے بس آہستہ سے کہا، “ہاں بیٹا، میں یہیں ہوں۔”
حامد رات کو آیا تو مریم کی حالت بہتر تھی۔ اس نے صبرینہ کو دیکھا جو چادر اوڑھے زمین پر بیٹھی تھی، اس کے چہرے پر نیند نہیں، فکر تھی۔ حامد کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ آہستہ سے بولا، “تم نے بہت کیا۔”
صبرینہ نے بس اتنا کہا، “یہ بچہ ہے۔ بچے پر دل آ جاتا ہے۔”
اگلے دن سعد درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ وہ اسی جگہ بیٹھا تھا جہاں اس کا باپ اکثر اداس ہو کر بیٹھتا تھا۔ صبرینہ بھی آہستہ آہستہ وہاں آ گئی۔ دونوں کے بیچ خاموشی تھی۔ پھر سعد نے اچانک پوچھا، “آپ میری ماں بننا چاہتی ہیں؟”
یہ سوال سیدھا تھا، مگر اس کے پیچھے بہت درد تھا۔
صبرینہ نے کچھ دیر سوچا۔ پھر بولی، “میں تمہاری ماں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ وہ تمہارے دل میں ہے۔ مگر میں تمہاری زندگی میں ایسے رہ سکتی ہوں کہ تمہیں ڈر نہ لگے۔ بس اتنا کر سکتی ہوں۔”
سعد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ پہلی بار کسی کے سامنے کمزور پڑا۔ “لوگ کہتے ہیں سوتیلی ماں بری ہوتی ہے۔”
صبرینہ نے درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا۔ “لوگ بہت کچھ کہتے ہیں سعد۔ مگر درخت دیکھو۔ یہ بوڑھا ہے، پھر بھی سایہ دیتا ہے۔ کسی سے نہیں پوچھتا کہ تم میرے ہو یا نہیں۔ بس سایہ دیتا ہے۔”
اس شام سعد نے پہلی بار صبرینہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا۔ مریم نے بھی ڈرتے ڈرتے اس کے پاس آ کر سر ٹکا دیا۔ صبرینہ نے مریم کے سر پر ہاتھ رکھا، بہت آہستہ، جیسے کوئی پرانی چیز ٹوٹ نہ جائے۔
وقت کے ساتھ گھر میں ہنسی واپس آنے لگی۔ کبھی چھوٹی چھوٹی۔ کبھی بڑی۔ حامد کے چہرے سے بھی سختی کم ہوئی۔ سعد اب بھی اپنی ماں کو یاد کرتا، مگر اب وہ صبرینہ کو “اجنبی” نہیں سمجھتا تھا۔ مریم اسکول سے آ کر صبرینہ کو اپنی کاپی دکھاتی، اور صبرینہ اس کی غلطیاں پیار سے درست کرتی۔
ایک دن بارش آئی۔ وہی بوڑھا درخت بھیگ رہا تھا۔ صبرینہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سعد اور مریم صحن میں کھیل رہے تھے۔ حامد نے آ کر آہستہ سے پوچھا، “تم تھک تو نہیں گئیں؟”
صبرینہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “تھکن تو ہوتی ہے۔ مگر جب بچے ہنس دیتے ہیں نا، تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔”
اس رات صبرینہ نے مریم کو سلاتے وقت ایک دعا پڑھی۔ سعد دروازے پر کھڑا تھا۔ اس نے وہ دعا سنی تو اسے اپنی ماں کی آواز یاد آ گئی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اترا۔ وہ اندر آیا اور دھیرے سے بولا، آپ یہ دعا پھر پڑھ دیں۔
صبرینہ نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار قبولیت تھی۔ صبرینہ نے دوبارہ دعا پڑھی۔ اور بوڑھے درخت کے پتے باہر ہلکے سے ہلے، جیسے وہ بھی گواہی دے رہے ہوں کہ کبھی کبھی رشتے خون سے نہیں، صبر سے بنتے ہیں۔